یہ کون گزرا ادھر سے صدا لگاتے ہوئے
یہ کون گزرا ادھر سے صدا لگاتے ہوئے
دریچے کھلنے لگے ہنستے مسکراتے ہوئے
گزر رہی ہے کسی طرح زندگی اپنی
فریب دیتے ہوئے یا فریب کھاتے ہوئے
مری نظر میں سلگتے ہوئے وہ منظر ہیں
جھجکتے ہیں مری آنکھوں میں خواب آتے ہوئے
مجھے عذاب کی صورت عطا ہوئی دستار
تمام عمر گزاری ہے سر بچاتے ہوئے
مجھے سمیٹنا اب کس کی ذمہ داری ہے
بکھر گیا میں تری زندگی بناتے ہوئے
وہ قدر ہونے لگی آشناؔ اندھیرے کی
کہ لوگ ڈرتے ہیں اب روشنی میں آتے ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.