یہ کیا شدید اذیت ہے کیسا درد ہے یار
یہ کیا شدید اذیت ہے کیسا درد ہے یار
کہ فصل گل میں بھی چہرہ ہمارا زرد ہے یار
میں اس لیے بھی ترے سامنے نہیں روتا
کہ میری ذات سے منسوب لفظ مرد ہے یار
جو اپنے گاؤں کا سب سے شریف لڑکا تھا
وہی تو دشت محبت کا رہ نورد ہے یار
مرے ہی شوق طلب سے ہے مسئلہ سب کو
وگرنہ وصل کا طالب ہر ایک فرد ہے یار
میں اس کی گرم نگاہی سے ہو گیا محروم
سو میرے جسم کا ہر حصہ آج سرد ہے یار
جسے یہ اہل نظر سنگ میل کہتے ہیں
یقین کر وہ مرے راستے کی گرد ہے یار
کوئی تو شیش محل میں بھی نا سپاس رہا
کسی کے سر پہ فقط چرخ لاجورد ہے یار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.