وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیاں سے اٹھا
وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیاں سے اٹھا
وہاں سے بات نہ آگے چلی جہاں سے اٹھا
وہ دوسروں کے لیے اپنی جان کیوں دیتا
نہ اپنا درد بھی جس یار مہرباں سے اٹھا
ہم اپنی آگ میں جل بجھ کے راکھ ہو بھی چکے
وہ آج پوچھ رہے ہیں دھواں کہاں سے اٹھا
ترا عتاب نظر ہم تو سہہ گئے لیکن
زمین کانپ گئی شور آسماں سے اٹھا
بہت دنوں سے جو کہنا تھا ان سے کہہ آئے
بلا کا بوجھ تھا جو آج جسم و جاں سے اٹھا
ہم آپ اپنی نگاہوں میں ہو گئے رسوا
تھا اک حجاب کا پردہ سو درمیاں سے اٹھا
ہر ایک بیٹھ گیا اپنے اپنے سائے میں
نہ بار ہم سفراں میر کارواں سے اٹھا
یہ سوز عشق بھی ہے درد مشترک ہی نہیں
جلا ہے کوئی دھواں میرے آشیاں سے اٹھا
ہر ایک چیز پرانی دکھائی دینے لگی
مکیں جمیلؔ جب اپنے نئے مکاں سے اٹھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.