Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیاں سے اٹھا

جمیل ملک

وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیاں سے اٹھا

جمیل ملک

MORE BYجمیل ملک

    وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیاں سے اٹھا

    وہاں سے بات نہ آگے چلی جہاں سے اٹھا

    وہ دوسروں کے لیے اپنی جان کیوں دیتا

    نہ اپنا درد بھی جس یار مہرباں سے اٹھا

    ہم اپنی آگ میں جل بجھ کے راکھ ہو بھی چکے

    وہ آج پوچھ رہے ہیں دھواں کہاں سے اٹھا

    ترا عتاب نظر ہم تو سہہ گئے لیکن

    زمین کانپ گئی شور آسماں سے اٹھا

    بہت دنوں سے جو کہنا تھا ان سے کہہ آئے

    بلا کا بوجھ تھا جو آج جسم و جاں سے اٹھا

    ہم آپ اپنی نگاہوں میں ہو گئے رسوا

    تھا اک حجاب کا پردہ سو درمیاں سے اٹھا

    ہر ایک بیٹھ گیا اپنے اپنے سائے میں

    نہ بار ہم سفراں میر کارواں سے اٹھا

    یہ سوز عشق بھی ہے درد مشترک ہی نہیں

    جلا ہے کوئی دھواں میرے آشیاں سے اٹھا

    ہر ایک چیز پرانی دکھائی دینے لگی

    مکیں جمیلؔ جب اپنے نئے مکاں سے اٹھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے