نرم لہجے میں حکم جاری ہے
نرم لہجے میں حکم جاری ہے
واہ کیا خوب انکساری ہے
قتل کرتے ہیں دیتے ہیں پرسہ
کتنی دلچسپ غم گساری ہے
مسکرا کر غموں سے ملتے ہیں
کیا کریں پاس وضع داری ہے
درد بن کر سسکتی ہے ہر پل
زندگی پھر بھی کتنی پیاری ہے
تو ہے شاعر تو پھر جگا سب کو
تیرے سر پر یہ ذمہ داری ہے
کس طرح ہم سمجھ سکیں اس کو
اس کا لہجہ تو کاروباری ہے
تم کو شاید پتا نہیں ہے عزیزؔ
وقت کتنا بڑا مداری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.