Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نجانے درد ہیں کتنے ہمارے سینے میں

امجد رحمانی

نجانے درد ہیں کتنے ہمارے سینے میں

امجد رحمانی

MORE BYامجد رحمانی

    نجانے درد ہیں کتنے ہمارے سینے میں

    مگر ہے کتنا مزہ ان کے ساتھ جینے میں

    یہ ناؤ بیچ بھنور میں پہنچ گئی کیسے

    ضرور کوئی منافق ہے اس سفینے میں

    کہاں تھی اتنی چمک اس حقیر پتھر میں

    بسا ہوا ہے ترا جلوہ اس نگینے میں

    ہمارے زخم کو چھوٹا سا جاننے والے

    یہ زخم بھر نہیں سکتا ہے سو مہینے میں

    ابھی سے دل میں تم آنے کی آرزو نہ کرو

    ابھی ہے زندگی اتنی کہاں قرینے میں

    جمال یار کی دوشیزگی قیامت ہے

    عجیب خوشبو سمانے لگے پسینے میں

    نزول رحمت باری سے پر سکوں سب ہیں

    اسی لئے ہے تمنا رہوں مدینے میں

    عجیب چیز ہے سینے میں بھی یہ دل امجدؔ

    چھپے ہوئے ہیں کئی راز اس دفینے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے