نجانے درد ہیں کتنے ہمارے سینے میں
نجانے درد ہیں کتنے ہمارے سینے میں
مگر ہے کتنا مزہ ان کے ساتھ جینے میں
یہ ناؤ بیچ بھنور میں پہنچ گئی کیسے
ضرور کوئی منافق ہے اس سفینے میں
کہاں تھی اتنی چمک اس حقیر پتھر میں
بسا ہوا ہے ترا جلوہ اس نگینے میں
ہمارے زخم کو چھوٹا سا جاننے والے
یہ زخم بھر نہیں سکتا ہے سو مہینے میں
ابھی سے دل میں تم آنے کی آرزو نہ کرو
ابھی ہے زندگی اتنی کہاں قرینے میں
جمال یار کی دوشیزگی قیامت ہے
عجیب خوشبو سمانے لگے پسینے میں
نزول رحمت باری سے پر سکوں سب ہیں
اسی لئے ہے تمنا رہوں مدینے میں
عجیب چیز ہے سینے میں بھی یہ دل امجدؔ
چھپے ہوئے ہیں کئی راز اس دفینے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.