مستقل درد کی لذت چاہی
مستقل درد کی لذت چاہی
دل بے تاب نے الفت چاہی
اس کا غم پوچھ سکو تو پوچھو
جس نے مرنے کی مسرت چاہی
دل کی ہنگامہ پسندی توبہ
پھر وہی شورش وحشت چاہی
اپنی رسوائی پہ اب شاکی ہے
دل تھا دیوانہ کہ شہرت چاہی
تو تو ہر ایک کو اپناتا گیا
اور میں نے تری الفت چاہی
کتنے ہنگامے اٹھے ہیں دل میں
جب بھی تسکین کی صورت چاہی
جس میں ہر درد سما جائے عزیزؔ
دل میں ہم نے وہی وسعت چاہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.