خون کے گھونٹ کئی بار پئے ہیں میں نے
خون کے گھونٹ کئی بار پئے ہیں میں نے
اک جوانی میں کئی عشق کئے ہیں میں نے
حسن والوں سے رفیقوں سے رقیبوں سے مجھے
جتنے بھی زخم ملے خود ہی سیے ہیں میں نے
سچ تو یہ ہے جو ترے ساتھ نہیں گزرے ہیں
کتنی مشکل سے وہ لمحات جیئے ہیں میں نے
جس کی فرقت نے کہیں کا نہیں چھوڑا مجھ کو
وہ سمجھتا ہے اسے دھوکے دیئے ہیں میں نے
حق بیانی کی سزائیں بھی بہت کاٹی ہیں
بے وفائی کے بھی الزام لئے ہیں میں نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.