کھلیں گے جب تلک اسرار کوئی
کھلیں گے جب تلک اسرار کوئی
اتر جائے گا دریا پار کوئی
مسیحا دیر ہوتی جا رہی ہے
کہیں مر جائے گا بیمار کوئی
میں ریزہ ریزہ ہوتا جا رہا ہوں
مجھے درکار ہے معمار کوئی
میں شب بھر توڑتا رہتا ہوں اس کو
اٹھا دیتا ہے پھر دیوار کوئی
مجھے مقتل صدائیں دے رہا ہے
کہیں گونجی ہے پھر للکار کوئی
لڑا ہوں جس طرح میں خود سے تنہا
ہوا ہے برسر پیکار کوئی
یہ میرا دیس ہے جنت خدا کی
ہے وارث کوئی دعویدار کوئی
کسی نے قید کر لیں فاختائیں
اٹھا کر لے گیا اشجار کوئی
مرا اک درد یہ بھی ہے کہ میرا
کہانی میں نہیں کردار کوئی
تو کیا میں بھی بناتا دائرے ہی
جو مل جاتی مجھے پرکار کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.