کہاں جذبات میں ہم بہہ رہے ہیں
کہاں جذبات میں ہم بہہ رہے ہیں
جو کہنا تھا وہی تو کہہ رہے ہیں
کسی سے کیا گلا شکوہ کریں ہم
یہ دکھ ورثے کے ہیں جو سہہ رہے ہیں
بچا سکتے ہو تو اس کو بچا لو
مکاں انسانیت کے ڈھ رہے ہیں
ہوئے ہیں کب ابھی آپے سے باہر
ابھی ہم اپنے اندر رہ رہے ہیں
زمانہ ہو رہا ہے کیوں مخالف
تمہیں اپنا اگر ہم کہہ رہے ہیں
یہاں انسان ہے انساں کا دشمن
یہ کس دنیا میں ہم اب رہ رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.