ہوتا ہے دل میں درد کہاں پوچھتے ہیں لوگ
ہوتا ہے دل میں درد کہاں پوچھتے ہیں لوگ
کس سادگی سے تیرا نشاں پوچھتے ہیں لوگ
دل کے قریب آتے نہیں دور دور سے
اٹھتا ہے کس جگہ سے دھواں پوچھتے ہیں لوگ
اب کاروبار عشق میں وہ ضبط دل کہاں
پہلے ہی اپنا سود و زیاں پوچھتے ہیں لوگ
جب ہو چکے ہیں ذات کی پہنائیوں میں گم
کیا وسعت زمین و زماں پوچھتے ہیں لوگ
تصویر کائنات کو دنیا ہے پوجتی
تفہیم کائنات کہاں پوچھتے ہیں لوگ
کتنا یہ خوفناک ہے احباب کا سوال
گزری ہے کیسے عمر رواں پوچھتے ہیں لوگ
ہوڑہ میں بود و باش ہے بچپن سے اے عزیزؔ
یہ جان کر بھی میری زباں پوچھتے ہیں لوگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.