ہجر کے سارے عذابوں سے گزر جانا ہے
ہجر کے سارے عذابوں سے گزر جانا ہے
ہم نے اس بار اسے دیکھ کے مر جانا ہے
لا کے دوراہے پہ وہ چھوڑ گیا ہے مجھ کو
آ کے بتلائے کہ اب میں نے کدھر جانا ہے
دل کی کیا پوچھتے ہو رنج تو گھر ہے اس کا
یہ کوئی زخم نہیں ہے جسے بھر جانا ہے
ٹوٹ جانا ہے خیالوں نے خبر ہے مجھ کو
مجھے معلوم ہے خوابوں نے بکھر جانا ہے
شعر کہتا ہوں اب اس شوخ کی فرمائش پر
عیب تھا میرا جسے اس نے ہنر جانا ہے
وعدۂ وصل کو سچ مان لیا ہے میں نے
اور پہلے کی طرح اس نے مکر جانا ہے
آخری فیصلہ کر کے پلٹ آنا ہے ظفرؔ
ہاں اگر اس نے پکارا تو ٹھہر جانا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.