Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہجر کے سارے عذابوں سے گزر جانا ہے

ظفر اقبال

ہجر کے سارے عذابوں سے گزر جانا ہے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    ہجر کے سارے عذابوں سے گزر جانا ہے

    ہم نے اس بار اسے دیکھ کے مر جانا ہے

    لا کے دوراہے پہ وہ چھوڑ گیا ہے مجھ کو

    آ کے بتلائے کہ اب میں نے کدھر جانا ہے

    دل کی کیا پوچھتے ہو رنج تو گھر ہے اس کا

    یہ کوئی زخم نہیں ہے جسے بھر جانا ہے

    ٹوٹ جانا ہے خیالوں نے خبر ہے مجھ کو

    مجھے معلوم ہے خوابوں نے بکھر جانا ہے

    شعر کہتا ہوں اب اس شوخ کی فرمائش پر

    عیب تھا میرا جسے اس نے ہنر جانا ہے

    وعدۂ وصل کو سچ مان لیا ہے میں نے

    اور پہلے کی طرح اس نے مکر جانا ہے

    آخری فیصلہ کر کے پلٹ آنا ہے ظفرؔ

    ہاں اگر اس نے پکارا تو ٹھہر جانا ہے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے