ہائے میری قسمت نے کھیل کیسا کھیلا ہے
ہائے میری قسمت نے کھیل کیسا کھیلا ہے
ایک دل ہے محفل میں ایک دل اکیلا ہے
کیا عجب تماشا ہے کیا عجب زمانہ ہے
جو نہیں کسی لائق اس کے ساتھ میلا ہے
اک حسین لڑکی نے مجھ سے سیدھے سادے کو
عشق کے سمندر میں جان کر دھکیلا ہے
محفلوں میں ہنستا ہوں مصلحت ہے یہ ورنہ
اشک اب نہیں آتے درد اتنا جھیلا ہے
عشق ہو گیا تم سے یہ کہے ہے دل مجھ سے
تم مجھے نہ سمجھاؤ دل بڑا ہٹیلا ہے
اے نظامؔ توبہ ہے عشق سے مری توبہ
مسکراہٹیں کم ہیں اس میں بس جھمیلا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.