فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
پتھروں سے بشر تراشا کر
کب سے اپنی تلاش میں گم ہوں
اے خدا مجھ کو مجھ پہ افشا کر
اس پہ اب انگلیاں اٹھاتا ہوں
جس کو مانگا تھا ہاتھ پھیلا کر
ایک تنہا شجر نے مجھ سے کہا
میرے سائے میں روز بیٹھا کر
جل چکا شہر مر چکے باسی
اب بجھی راکھ ہی کریدا کر
عمر بھر مجھ پہ برف برسی ہے
دشت کی دھوپ مجھ پہ سایا کر
درد کی رت ہے رنگ پر محسنؔ
شہر در شہر زخم بیچا کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.