دیکھتے کیا ہو دیدۂ تر میں
دیکھتے کیا ہو دیدۂ تر میں
غم کی دنیا ہے اس سمندر میں
دل جو ٹوٹا تو یہ ہوا معلوم
جان پڑتی نہیں ہے پتھر میں
ان کی آنکھوں سے جام پیتے ہیں
مے کدہ آ گیا مرے گھر میں
درد دے کر دوا بھی دیتا ہے
کیسی خوبی ہے اس ستمگر میں
راس آنے لگی ہے تنہائی
پڑ گئے ہو کسی کے چکر میں
تم سے آزاد میں نہ ہو پایا
موت نے کر دیا ہے پل بھر میں
اس کو کیسے بھلاؤں گا میں نظامؔ
دل کی دنیا ہے میرے دلبر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.