Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آئنہ رکھتے تو اپنی کج ادائی دیکھتے

اطیب انور ساحل

آئنہ رکھتے تو اپنی کج ادائی دیکھتے

اطیب انور ساحل

MORE BYاطیب انور ساحل

    آئنہ رکھتے تو اپنی کج ادائی دیکھتے

    کاش تم بھی خود میں تھوڑی سی برائی دیکھتے

    بجھ گئی ہے آنکھ اب منظر میں کچھ رکھا نہیں

    ورنہ ہم بھی خواب کی جلوہ نمائی دیکھتے

    تھک گئے ہیں لفظ اب خاموش رہنا ہی بھلا

    اب بھلا کیا حرف و معنی کی لڑائی دیکھتے

    پڑھ لیا ہوتا اگر تم نے ہمارے زخم کو

    ہم میں اک اجڑی ہوئی پوری خدائی دیکھتے

    خود سے ہم باہر نکل پائے نہیں عمر تمام

    تجھ تک اے دنیا کہاں اپنی رسائی دیکھتے

    رہ گئے مٹ کر ہم اپنی بے بسی کے موڑ پر

    پھر کہاں سے عشق کی ہم پارسائی دیکھتے

    جس جگہ ہم نے گنوائی اپنی عمر بے ثمر

    کاش تم بھی وہ جگہ وہ بے وفائی دیکھتے

    ایک مدت سے تعلق صرف مجبوری رہا

    تم کبھی تو عشق میں وہ آشنائی دیکھتے

    خون تھوکا ہے تو جا کر یہ غزل پیدا ہوئی

    کاش تم بھی لفظ کی یہ خوں چکائی دیکھتے

    ختم ہے اب یہ تماشہ خاک ڈالو ہم پہ بھی

    کب تلک ساحلؔ تم اپنی جگ ہنسائی دیکھتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے