آئنہ رکھتے تو اپنی کج ادائی دیکھتے
آئنہ رکھتے تو اپنی کج ادائی دیکھتے
کاش تم بھی خود میں تھوڑی سی برائی دیکھتے
بجھ گئی ہے آنکھ اب منظر میں کچھ رکھا نہیں
ورنہ ہم بھی خواب کی جلوہ نمائی دیکھتے
تھک گئے ہیں لفظ اب خاموش رہنا ہی بھلا
اب بھلا کیا حرف و معنی کی لڑائی دیکھتے
پڑھ لیا ہوتا اگر تم نے ہمارے زخم کو
ہم میں اک اجڑی ہوئی پوری خدائی دیکھتے
خود سے ہم باہر نکل پائے نہیں عمر تمام
تجھ تک اے دنیا کہاں اپنی رسائی دیکھتے
رہ گئے مٹ کر ہم اپنی بے بسی کے موڑ پر
پھر کہاں سے عشق کی ہم پارسائی دیکھتے
جس جگہ ہم نے گنوائی اپنی عمر بے ثمر
کاش تم بھی وہ جگہ وہ بے وفائی دیکھتے
ایک مدت سے تعلق صرف مجبوری رہا
تم کبھی تو عشق میں وہ آشنائی دیکھتے
خون تھوکا ہے تو جا کر یہ غزل پیدا ہوئی
کاش تم بھی لفظ کی یہ خوں چکائی دیکھتے
ختم ہے اب یہ تماشہ خاک ڈالو ہم پہ بھی
کب تلک ساحلؔ تم اپنی جگ ہنسائی دیکھتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.