بہتی آنکھوں سے تھک کر کے سوئے ہوئے
بہتی آنکھوں سے تھک کر کے سوئے ہوئے
ایک عرصہ ہوا اب تو روئے ہوئے
وہ نمی وہ اداسی وہ دور اور تھا
اک زمانہ ہوا اس کو کھوئے ہوئے
ایک بوڑھا درخت آج پھر گر گیا
چھاؤں سے تھا جو سب کو پروئے ہوئے
راہ تکتا رہا اپنے بیٹوں کی وہ
بوڑھے سپنوں کو کندھے پہ ڈھوئے ہوئے
آؤ بیٹھو کہیں کچھ عبادت کریں
ایک مدت ہوئی پاپ دھوئے ہوئے
اے مسافرؔ یہ محفل رقیبوں کی ہے
کیسے گزرو گے آنکھیں بھگوئے ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.