دہلیزوں پر دیپ جلانے آئی تو ہے دیوالی
دہلیزوں پر دیپ جلانے آئی تو ہے دیوالی
پھر بھی آنکھوں کے آنگن ہیں بالکل خالی خالی
ان پہ تمہارے نام لکھے ہیں یہ چہرے مت دیکھو
بھاگو ان ملبوں سے بھی جن میں دفن ہے ان کی بحالی
جن سے ہم نے جنوں سیکھا تھا ان کا حال ہے ایسا
اب کشکول ہیں آنکھیں ان کی ان کے ہاتھ سوالی
کیسے کوئی تصویر بناؤں رنگ اڑے جاتے ہیں
گھولے کتنے رنگ مگر ہے چاند کا پیالہ خالی
پھر کھڑکی سے جھانک کے چاند نے پوچھا تم کیسے ہو
پھر میرے حصے میں آئیں راتیں یادوں والی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.