Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دہلیزوں پر دیپ جلانے آئی تو ہے دیوالی

راہی معصوم رضا

دہلیزوں پر دیپ جلانے آئی تو ہے دیوالی

راہی معصوم رضا

MORE BYراہی معصوم رضا

    دہلیزوں پر دیپ جلانے آئی تو ہے دیوالی

    پھر بھی آنکھوں کے آنگن ہیں بالکل خالی خالی

    ان پہ تمہارے نام لکھے ہیں یہ چہرے مت دیکھو

    بھاگو ان ملبوں سے بھی جن میں دفن ہے ان کی بحالی

    جن سے ہم نے جنوں سیکھا تھا ان کا حال ہے ایسا

    اب کشکول ہیں آنکھیں ان کی ان کے ہاتھ سوالی

    کیسے کوئی تصویر بناؤں رنگ اڑے جاتے ہیں

    گھولے کتنے رنگ مگر ہے چاند کا پیالہ خالی

    پھر کھڑکی سے جھانک کے چاند نے پوچھا تم کیسے ہو

    پھر میرے حصے میں آئیں راتیں یادوں والی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے