ہمارے دامن پہ کھل رہے ہیں جو داغ سارے
ہمارے دامن پہ کھل رہے ہیں جو داغ سارے
انہی کی رنگت سے ہیں فروزاں یہ باغ سارے
نہ ڈھونڈ مہتاب میں کوئی شب کا ہم سفر اب
کہ گھر کی طاقوں میں جل رہے ہیں چراغ سارے
ہم اب محبت کا کھیل سودا نہیں کریں گے
کسی کی یادوں سے اب ہیں خالی دماغ سارے
سکوت صحرا ہی اب ہمارے لیے ہے بہتر
شجر کی شاخوں پہ آ چکے ہیں کلاغ سارے
چلے گئے چھوڑ کر وہیں کارواں کے راہی
سفر کی سختی سے گر پڑے جو الاغ سارے
ملا ہے رتبہ ہمیں جہاں میں قلندری کا
بدل کے رکھ دیں گے ایک دن ہم ایاغ سارے
چھپا کے بیٹھے ہیں جو زمانے کی کج کلاہی
لہو کے چھینٹے اگل ہی دیں گے سراغ سارے
عظیمؔ فہم و شعور کی اک نئی سحر ہو
ہر ایک دل تک مرے جو پہنچیں بلاغ سارے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.