ہماری آرزو کب ہے ہمیں خدائی ملے
ہماری آرزو کب ہے ہمیں خدائی ملے
مگر زمینی خداؤں سے تو رہائی ملے
دئے جلا کے منڈیروں پہ روز رکھتا ہوں
کہ آتے جاتے مسافر کو رہنمائی ملے
تو کیا حسین کے رستے پہ آ گئے ہیں سبھی
ہمیں تو جتنے ملے دوست کربلائی ملے
یہ لوگ جو مری آوارگی پہ ہنستے ہیں
دعائیں کرتا ہوں میں ان کو پارسائی ملے
سنو کہ یار منایا ہے ناچ کر میں نے
مجھے بھی شہر محبت کی اولیائی ملے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.