کہا یہ کس نے کہ چہرہ نیا لگاؤ مت
کہا یہ کس نے کہ چہرہ نیا لگاؤ مت
اسے لگا کے مگر آئنوں میں آؤ مت
لگا دیئے ہیں کسی نے جو پنکھ کاغذ کے
تو اپنے آپ کو اتنا میاں اڑاؤ مت
کہیں یہ دائرۂ طنز میں نہ آ جائے
ہمارے سامنے اس طرح مسکراؤ مت
عجب نہیں کہ یہ دنیا گلے میں آ جائے
بہت زیادہ گلے سے اسے لگاؤ مت
نکالے اور ہی مطلب وہ خاکساری کا
اب اس کے سامنے اتنا بھی سر جھکاؤ مت
ابھی ابھی تو وہ کچھ بولنے پہ آیا ہے
نعیمؔ ابھی سے اسے آئنہ دکھاؤ مت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.