Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حیا سے بالوں میں چہرے کو ہو چھپائے ہوئے

علی میاں کامل لکھنوی

حیا سے بالوں میں چہرے کو ہو چھپائے ہوئے

علی میاں کامل لکھنوی

MORE BYعلی میاں کامل لکھنوی

    حیا سے بالوں میں چہرے کو ہو چھپائے ہوئے

    کہاں سے آتے ہو جاگے ہوئے نہائے ہوئے

    ادھر بھی ایک نظر دیکھ لو برائے خدا

    تمہاری آنکھوں پہ بیٹھے ہیں زہر کھائے ہوئے

    ہمیں ستاؤ نہ للہ اکھڑی باتوں سے

    ہم آپ گردش گردوں کے ہیں ستائے ہوئے

    عزیز داغ محبت ہے اس قدر مجھ کو

    فنا کے بعد بھی چھاتی سے ہوں لگائے ہوئے

    فنا کے بعد بھی گردش ہے میری قسمت میں

    لئے پھرے گی ہوا خاک کو اڑائے ہوئے

    پڑے ہیں ٹوٹے ہوئے ہر قدم پہ شیشۂ دل

    سنبھل کے راہ چلو پاؤں کو بچائے ہوئے

    سوال وصل جو کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں

    مجھی پہ بیٹھے ہیں کیا آپ زہر کھائے ہوئے

    کمر پہ یار کی ہاتھوں کا بوجھ کیا ڈالوں

    وہ آپ گیسوؤں کے بار ہیں اٹھائے ہوئے

    کفن میں یار کی تصویر رکھ دیں دفن کے وقت

    لحد سے اٹھوں گا اس کو گلے لگائے ہوئے

    چلا ہوں سونے کو پہلوئے قبر میں کاملؔ

    جگر پہ تیغ محبت کا زخم کھائے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے