ہر گام نفس ایک گرہ کاٹ رہی ہے
ہر گام نفس ایک گرہ کاٹ رہی ہے
لمحوں کی چھری بھی بڑی سفاک چھری ہے
چہروں پہ تو ہے وقت کی تہذیب کا غازہ
جسموں پہ گھنی گرد کدورت کی جمی ہے
میں آج کہاں آیا ہوں صحرا سے نکل کر
دیوانوں کی اک بھیڑ مرے گرد لگی ہے
امید کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہیں سانسیں
احساس کو یادوں کی ہوا چوم رہی ہے
پھر سنگ زنی کا کوئی الزام تراشو
پھر خواب سے وحشت مری بیدار ہوئی ہے
جینے کے لیے آؤ کوئی راہ نکالیں
مرنے کے لیے تو ابھی اک عمر پڑی ہے
کس کس کی زباں پکڑوگے اس بھیڑ میں ایمنؔ
یہ شہر ہے بہتر یہاں بیگانہ روی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.