مقام فکر و نظر ہے بلند بینوں کو
مقام فکر و نظر ہے بلند بینوں کو
زمیں نے چیر دیا ہے فلک کے سینوں کو
مری زمیں کے ستاروں سے آ رہا ہے حجاب
بلندیوں پہ چمکتے ہوئے نگینوں کو
مجھے فریب اثر دے نہ اب غم ہستی
بہت عزیز میں رکھتا ہوں آبگینوں کو
ہمیں نے شورش طوفاں میں نا خدائی کی
ہمیں نے پار لگایا ہے ان سفینوں کو
مری جبیں سے ہی ٹپکے ہوئے یہ موتی ہیں
زمیں کی کوکھ نے اگلا ہے جن خزینوں کو
نہیں رموز خودی سے وہ آشنا مضطرؔ
ہر ایک در پہ جھکاتے ہیں جو جبینوں کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.