یہ کشش تو نہیں یونہی تصویر میں
یہ کشش تو نہیں یونہی تصویر میں
کوئی جادو ہے ابرو کی شمشیر میں
خواب تو دیکھا ہے میں نے کافی حسیں
بس خرابی نہ ہو اس کی تعبیر میں
کوئی پوچھے مرا اس سے کہنا یہی
تیرے زنداں میں ہیں تیری زنجیر میں
لکھتا ہوں جب کبھی بے وفائی تری
یہ قلم خود ہی لکھتا ہے تفسیر میں
اس کی قدرت سے ہے یہ زمیں آسماں
اس کی قدرت دکھی مجھ کو قطمیر میں
میں نے مانا کہ خط میں تو رویا نہیں
لفظ بھیگے ہیں کیوں تیری تحریر میں
مجھ کو اردمؔ کہو یا تو مجنوں کہو
کیونکہ لیلیٰ نہیں میری تقدیر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.