وفا کے زعم میں دل کیا نچھاور کر دیا ہم نے
وفا کے زعم میں دل کیا نچھاور کر دیا ہم نے
کہ اور اس بے وفا بت کو ستم گر کر دیا ہم نے
کوئی دھرتی کا منہ ان کو دکھا دے جو یہ کہتے ہیں
کہ دھرتی کو ستاروں کے برابر کر دیا ہم نے
بھلا دینے کا کام آساں نہیں ہوتا مگر یہ بھی
کہا تھا تو نے سو تیرے کہے پر کر دیا ہم نے
بتائیں کیا کسی پتھر کو اسباب روانی ہم
دکھائیں کیا کہ دامن کس لیے تر کر دیا ہم نے
اثر ہو یا نہ ہو لفظوں میں یہ بات اور ہے لیکن
قلم کی نوک کو دل کا لہو بھر کر دیا ہم نے
ہماری زندگی کوہ گراں سر کرنے جیسی تھی
سو یہ کوہ گراں بھی ایک دن سر کر دیا ہم نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.