Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وفا کے زعم میں دل کیا نچھاور کر دیا ہم نے

اقبال حیات

وفا کے زعم میں دل کیا نچھاور کر دیا ہم نے

اقبال حیات

MORE BYاقبال حیات

    وفا کے زعم میں دل کیا نچھاور کر دیا ہم نے

    کہ اور اس بے وفا بت کو ستم گر کر دیا ہم نے

    کوئی دھرتی کا منہ ان کو دکھا دے جو یہ کہتے ہیں

    کہ دھرتی کو ستاروں کے برابر کر دیا ہم نے

    بھلا دینے کا کام آساں نہیں ہوتا مگر یہ بھی

    کہا تھا تو نے سو تیرے کہے پر کر دیا ہم نے

    بتائیں کیا کسی پتھر کو اسباب روانی ہم

    دکھائیں کیا کہ دامن کس لیے تر کر دیا ہم نے

    اثر ہو یا نہ ہو لفظوں میں یہ بات اور ہے لیکن

    قلم کی نوک کو دل کا لہو بھر کر دیا ہم نے

    ہماری زندگی کوہ گراں سر کرنے جیسی تھی

    سو یہ کوہ گراں بھی ایک دن سر کر دیا ہم نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے