تہمت لگی ہے خون پسینے کے بعد بھی
تہمت لگی ہے خون پسینے کے بعد بھی
ہم بے وفا ہیں ہونٹوں کو سینے کے بعد بھی
خود اپنے ڈوبنے کا تو مجھ کو نہیں ملال
طوفاں اٹھیں گے میرے سفینے کے بعد بھی
محفل میں ان کی کھل گیا دل کا معاملہ
پلکوں پہ اشک رہ گئے پینے کے بعد بھی
ہم بوالہوس ہی ٹھہرے کسی کی نگاہ میں
انداز گفتگو میں قرینے کے بعد بھی
مئے سے بھی تیری یاد کے شعلے نہ بجھ سکے
اک تشنگی سی رہتی ہے پینے کے بعد بھی
مضطرؔ ہمارے ساتھ کے بیمار اٹھ گئے
ہم زندگی کو روتے ہیں جینے کے بعد بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.