پھول زخموں کے چن رہا ہوں میں
پھول زخموں کے چن رہا ہوں میں
داستاں غم کی سن رہا ہوں میں
خاموشی کی اداس راہوں میں
تیری آواز سن رہا ہوں میں
عشق دیمک زدہ ہوا جب سے
ایک اک لمحہ گھن رہا ہوں میں
بے وفاؤں سے عشق کر کر کے
اپنے ہی سر کو دھن رہا ہوں میں
ابھی آنکھوں میں نیند ہے نجمیؔ
ابھی کچھ خواب بن رہا ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.