نہ شکوہ تھا نہ کوئی غم کبھی میری کہانی میں
نہ شکوہ تھا نہ کوئی غم کبھی میری کہانی میں
اچانک آ گئے طوفاں کئی اس زندگانی میں
جو اپنا تھا پرایا ہو گیا مجھ سے وہ پل بھر میں
اسی کے غم میں بوڑھا ہو گیا ہوں نوجوانی میں
کسی دن چاند بن کر جان جاں آ جاؤ میرے گھر
کروں گا میں کشادہ دل کو تیری میزبانی میں
سنا تھا یہ محبت کرنے والے کچھ نہ کر پائے
محبت کی کہانی نے لگائی آگ پانی میں
چلو اک دوسرے کا ہاتھ تھامے ساتھ چلتے ہیں
رہے گا کون زندہ موجؔ اس دنیائے فانی میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.