مجھے پاگل بنانے لگ گئے ہیں
مجھے پاگل بنانے لگ گئے ہیں
وہ پھر نزدیک آنے لگ گئے ہیں
جو آئے تھے جہاں میں روتے روتے
وہ بچے مسکرانے لگ گئے ہیں
کبھی یوں منہ بنا کر بیٹھ جانا
کبھی ہم کو منانے لگ گئے ہیں
تمہارے ہاتھ ایسا لگ رہا ہے
محبت کے خزانے لگ گئے ہیں
کسی کے حسن کی سنجیدگی کو
سمجھنے میں زمانے لگ گئے ہیں
جنہیں ہم نے دکھائی ساری دنیا
ہمیں آنکھیں دکھانے لگ گئے ہیں
انہیں پہلو میں میں نے کیا بٹھایا
بڑے نخرے دکھانے لگ گئے ہیں
جو کل تک منحصر تھے مجھ پہ نجمیؔ
وہ اب دامن بچانے لگ گئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.