محبت کا سفر رستے میں آدھا چھوڑ دیتے ہیں
محبت کا سفر رستے میں آدھا چھوڑ دیتے ہیں
نئی پیڑھی کے مجنوں اپنی لیلیٰ چھوڑ دیتے ہیں
چمک زردار کے بنگلے کی ہر دن بڑھتی جاتی ہے
پڑوسی کے یہاں لیکن اندھیرا چھوڑ دیتے ہیں
تمہیں کیسے چمن کا ہم نگہباں منتخب کر دیں
تمہارے خوف سے پنچھی بسیرا چھوڑ دیتے ہیں
سیاسی لوگ ہم کو اس لیے اچھے نہیں لگتے
زبانیں کاٹ کر یہ لوگ گونگا چھوڑ دیتے ہیں
محبت کے یہ رنج و غم بڑے ظالم بڑے ظالم
جو مرنا چاہتا ہے اس کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں
نظامؔ ان سے کوئی رشتہ نبھانے کی توقع کیا
جو مقصد پورا کرتے ہی ٹھکانہ چھوڑ دیتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.