متاع غیرت و پیماں لٹا کے بیٹھے ہیں
متاع غیرت و پیماں لٹا کے بیٹھے ہیں
جو ہم رکاب تھے رستے بھلا کے بیٹھے ہیں
انہیں شگفتگی گلستاں سے کیا نسبت
جو شاخ زرد پہ مسکن بنا کے بیٹھے ہیں
مٹا کے سانجھے دکھوں کی ہر اک روایت کو
وہ اپنے اپنے قبیلے بچا کے بیٹھے ہیں
عجب یہ رسم مسیحائی ہے کہ چارہ گر
غنیم وقت سے قیمت لگا کے بیٹھے ہیں
جو معتبر تھے بہت بزم جاں نثاراں میں
وہ آج غیر کی محفل سجا کے بیٹھے ہیں
قبائے زر کی تمنا میں بیچ دی غیرت
وقار حرف صداقت گنوا کے بیٹھے ہیں
خرید لائے ہیں صولتؔ جو ظلمت پیہم
چراغ مہر منور بجھا کے بیٹھے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.