کوئی اپنا ہو بھلے ہو وہ گزارے لائق
کوئی اپنا ہو بھلے ہو وہ گزارے لائق
ہاں مگر ہو وہ یہاں صرف ہمارے لائق
دیکھ کر تجھ کو کہیں اور نہ دیکھا ورنہ
تجھ سے بہتر تھے کئی لوگ ہمارے لائق
ناخدا اور خدا دونوں کا احسان سمجھ
ورنہ کشتی تو نہیں تھی یہ کنارے لائق
ڈوب جانے پہ یہ احساس ہو اس کو شاید
ایک تنکا تھا مگر تھا میں سہارے لائق
مجھ کو اس عشق کے آسیب سے آزاد کرا
پڑھ کے کچھ پھونک دے مجھ پر بھی اتارے لائق
خیر میں اپنی نہیں کہتا بتاؤ تو مگر
یار یہ شخص کہاں سے ہے تمہارے لائق
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.