جو مطمئن ہے تجھ کو اذیت میں ڈال کر
جو مطمئن ہے تجھ کو اذیت میں ڈال کر
وہ شخص تیرا ہے ہی نہیں مت ملال کر
خوش ہو رہا ہے تجھ پہ جو کیچڑ اچھال کر
کب تک رکھے گا اپنا گریباں سنبھال کر
اک دوست میرا دشمنوں کے ساتھ جا ملا
لازم ہے اب بڑھانا قدم دیکھ بھال کر
میری محبتوں کا جنازہ تو مت نکال
نازک مزاج ہوں میں ذرا سا خیال کر
عہد وفا میں ایک منافق کے واسطے
میں نے بھی رکھ دیا تھا کلیجہ نکال کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.