جن سے سب دل لگائے بیٹھے ہیں
جن سے سب دل لگائے بیٹھے ہیں
ان سے ہم چوٹ کھائے بیٹھے ہیں
جن کے سپنے میں ہم نہیں آتے
ان کے سپنے سجائے بیٹھے ہیں
کیا کریں غیروں کی شکایت ہم
اپنوں سے مات کھائے بیٹھے ہیں
اب کسی سے نہیں امید ہمیں
سب کو ہم آزمائے بیٹھے ہیں
ہم ہیں بے چپن دید ہو جائے
اور وہ نظریں چرائے بیٹھے ہیں
نم ہیں آنکھیں زباں بھی ہے چپ سی
کچھ وہ دل میں دبائے بیٹھے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.