ہم ان کی ہی یادوں کی تلاوت میں لگے ہیں
ہم ان کی ہی یادوں کی تلاوت میں لگے ہیں
وہ غیر سے ملنے کی جسارت میں لگے ہیں
جذبات کے بازار میں اب قدر ہی کیا ہے
تاجر تو کھلے دل کی تجارت میں لگے ہیں
انصاف کے مندر میں تماشا ہے عجب سا
حاکم بھی سر عام خیانت میں لگے ہیں
اک عمر سے لٹتے ہوئے دیکھا ہے چمن کو
پھر بھی یہ پرانی ہی روایت میں لگے ہیں
اس شہر کے حالات بتاتے ہیں برابر
کچھ لوگ امیروں کی حمایت میں لگے ہیں
دنیا کی جفاؤں سے عظیمؔ اوب چکا ہے
لوگ اپنے ہی اپنوں کی شکایت میں لگے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.