خیر مانگو کہ کہیں یہ نہ غضب ہو جائے
خیر مانگو کہ کہیں یہ نہ غضب ہو جائے
مرکز آہ و فغاں شہر طرب ہو جائے
کیا بھروسہ ہے محبت میں عجب ہو جائے
اس سے ملنا ہی بچھڑنے کا سبب ہو جائے
بے قراری میں سلگتے ہیں مسلسل دن رات
عشق ہوتا ہے بلا خیز یہ جب ہو جائے
رت بچھڑنے کی ہے میں سوچتا رہتا ہوں یہی
کیا خبر وہ جدا کس موڑ پہ کب ہو جائے
وہ کسی روز اگر کھول لے گیسو اپنے
عین ممکن ہے کہ پھر دن میں ہی شب ہو جائے
میری خوشیوں کو نہ لگ جائے کہیں یار نظر
میرا ہنسنا مرے رونے کا سبب ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.