فضا نہیں ہے ابھی سازگار ٹھہرو ذرا
فضا نہیں ہے ابھی سازگار ٹھہرو ذرا
میں کہہ رہا ہوں ناں رک جاؤ یار ٹھہرو ذرا
یہ لوگ لہجے کی نرمی کو ڈر سمجھتے ہیں
مرے حلیم مرے با وقار ٹھہرو ذرا
سرکنے والے ہیں مکر و فریب کے پردے
اترنے والا ہے سارا خمار ٹھہرو ذرا
سنو نہ دل کرو چھوٹا نکلنے دو سورج
رفیق من شجر سایہ دار ٹھہرو ذرا
ابھی تو اس نے جھٹکنی ہے زلف شانے سے
عروج باقی ہے منظر نگار ٹھہرو ذرا
مذاکرات ابھی چل رہے ہیں لہروں سے
میں سن رہا ہوں تمہاری پکار ٹھہرو ذرا
بچھڑتے وقت مرا ہاتھ تھام کر ناظرؔ
وہ کہہ رہا تھا مجھے بار بار ٹھہرو ذرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.