ایک چہرے کو مسلسل سوچتا رہتا ہوں میں
ایک چہرے کو مسلسل سوچتا رہتا ہوں میں
محفلوں میں ان دنوں خاموش سا رہتا ہوں میں
دیتا رہتا ہے صدائیں کار دنیا عشق میں
آ رہا ہوں آ رہا ہوں ٹالتا رہتا ہوں میں
ہنستے رہتے ہیں غریبوں کے دکھوں پر اہل زر
بے حسوں کو خامشی سے دیکھتا رہتا ہوں میں
لکھ دیا ہے اس نے قسمت میں مری دکھ نا تمام
جسم سو جاتا ہے میرا جاگتا رہتا ہوں میں
ہنس پڑوں تو بھیگ جاتی ہیں مری آنکھیں فہیمؔ
قہقہوں کو چشم نم سے دیکھتا رہتا ہوں میں
کٹ ہی جاتی ہے شب تنہائی بھی میری فہیمؔ
آپ اپنے آپ سے ہی بولتا رہتا ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.