Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک چہرے کو مسلسل سوچتا رہتا ہوں میں

فہیم ضیا

ایک چہرے کو مسلسل سوچتا رہتا ہوں میں

فہیم ضیا

MORE BYفہیم ضیا

    ایک چہرے کو مسلسل سوچتا رہتا ہوں میں

    محفلوں میں ان دنوں خاموش سا رہتا ہوں میں

    دیتا رہتا ہے صدائیں کار دنیا عشق میں

    آ رہا ہوں آ رہا ہوں ٹالتا رہتا ہوں میں

    ہنستے رہتے ہیں غریبوں کے دکھوں پر اہل زر

    بے حسوں کو خامشی سے دیکھتا رہتا ہوں میں

    لکھ دیا ہے اس نے قسمت میں مری دکھ نا تمام

    جسم سو جاتا ہے میرا جاگتا رہتا ہوں میں

    ہنس پڑوں تو بھیگ جاتی ہیں مری آنکھیں فہیمؔ

    قہقہوں کو چشم نم سے دیکھتا رہتا ہوں میں

    کٹ ہی جاتی ہے شب تنہائی بھی میری فہیمؔ

    آپ اپنے آپ سے ہی بولتا رہتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے