بد حواس و بے قرار و عاجز و مضطر اٹھا
بد حواس و بے قرار و عاجز و مضطر اٹھا
آپ کے پہلو میں جو بیٹھا وہ دل کھو کر اٹھا
توبہ اس بت کو بجائے حور مانگا میں نے کب
مجھ پہ یہ پیش خدا طوفاں سر محشر اٹھا
حضرت پیر مغاں کا فیض صحبت دیکھنا
جب میں بیٹھا پڑھ کے معنی خط ساغر اٹھا
میں نے کھولا بھی گریباں اور گردن بھی جھکی
تجھ کو کیا ہے فکر الٹ کر آستیں خنجر اٹھا
ان حسینان جہاں میں میرے وقت واپسیں
بیٹھا جو ہنس ہنس کے بالیں پر وہ رو رو کر اٹھا
اے فصاحتؔ شعر گوئی کا ہمیں کیا لطف ہو
بزم عالم سے لطافت سا سخن گستر اٹھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.