وفور شوق میں تشنہ لبی کی بات نہ ہو
وفور شوق میں تشنہ لبی کی بات نہ ہو
حضور حسن کوئی بے خودی کی بات نہ ہو
کسی کا ذکر زباں پر نہ کس طرح آئے
کہ چاند دل میں ہو اور چاندنی کی بات نہ ہو
اگر کسی کی محبت کا پاس ہے کچھ بھی
تو درد و یاس میں بھی تیرگی کی بات نہ ہو
بھرم ہے عشق کا اس میں کہ دل کی دل میں رہے
ہزار درد بڑھے بے کلی کی بات نہ ہو
پلائے جا مرے ساقی مگر لحاظ رہے
کہ بزم مے میں کہیں بے خودی کی بات نہ ہو
لبوں پہ مہر خوشی ہو نظر میں حسرت ہو
حضور دوست غم زندگی کی بات نہ ہو
چمن میں آئے کوئی تو کہاں یہ ممکن ہے
خرام ناز ہو اور کج روی کی بات نہ ہو
مفر اسی میں غموں سے یہی ہے خودداری
کہ ظلم و جور میں بھی بے کسی کی بات نہ ہو
متینؔ خود کو سنبھالو بھی ہوش میں آؤ
خود آگہی ہے کہ خود آگہی کی بات نہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.