چراغ لاکھ جلیں تیرگی نہیں جاتی
چراغ لاکھ جلیں تیرگی نہیں جاتی
شب فراق کی وحشت کبھی نہیں جاتی
لبوں کے جام پلائے تھے اس پری وش نے
زمانے بیت گئے بے خودی نہیں جاتی
گزر گئے ہیں کئی سال اس سے بچھڑے ہوئے
ہماری آنکھ سے لیکن نمی نہیں جاتی
خمیر میرا یہ کس دشت سے اٹھایا گیا
لبوں سے کیوں یہ مرے تشنگی نہیں جاتی
گزر تو جاتا ہوں اس کی گلی سے تھام کے دل
خیال و خواب سے اس کی گلی نہیں جاتی
چراغ جہد مسلسل جلا کے دیکھ لیا
مگر نصیب کی تیرہ شبی نہیں جاتی
پٹک کے دیکھا ہے دیوار پر بھی سر کو فہیمؔ
مگر دماغ سے شوریدگی نہیں جاتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.