بجھتے ہوئے چراغ جلاتے چلے گئے
بجھتے ہوئے چراغ جلاتے چلے گئے
ہم بے خودی میں خود کو گنواتے چلے گئے
اترا جو دل میں درد وہ گہرا تھا اس قدر
ہم مسکرا کے زخم چھپاتے چلے گئے
منزل کا کچھ پتہ نہ تھا لیکن جنون میں
ہر راستے پہ نقش بناتے چلے گئے
طوفان روزگار کی تلخی کے باوجود
امید کے چراغ جلاتے چلے گئے
کیا جانے کس نگاہ کا طوفان تھا کہ ہم
ہوش و حواس اپنے گنواتے چلے گئے
ہر گام پر جو سنگ ملامت ملے ہمیں
ہم راستے سے ان کو ہٹاتے چلے گئے
پل بھر کو بھی نہ رک سکی آنکھوں کی یہ ندی
دامن میں اپنے اشک چھپاتے چلے گئے
بیکار جا رہی تھی جو محنت خلوص کی
پھر بھی وفا کے فرض نبھاتے چلے گئے
شاعر تھے اور ضبط کا دعویٰ بھی تھا اسدؔ
اشعار میں وہ راز بتاتے چلے گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.