Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بجھتے ہوئے چراغ جلاتے چلے گئے

محمد اسد علی وڑائچ

بجھتے ہوئے چراغ جلاتے چلے گئے

محمد اسد علی وڑائچ

MORE BYمحمد اسد علی وڑائچ

    بجھتے ہوئے چراغ جلاتے چلے گئے

    ہم بے خودی میں خود کو گنواتے چلے گئے

    اترا جو دل میں درد وہ گہرا تھا اس قدر

    ہم مسکرا کے زخم چھپاتے چلے گئے

    منزل کا کچھ پتہ نہ تھا لیکن جنون میں

    ہر راستے پہ نقش بناتے چلے گئے

    طوفان روزگار کی تلخی کے باوجود

    امید کے چراغ جلاتے چلے گئے

    کیا جانے کس نگاہ کا طوفان تھا کہ ہم

    ہوش و حواس اپنے گنواتے چلے گئے

    ہر گام پر جو سنگ ملامت ملے ہمیں

    ہم راستے سے ان کو ہٹاتے چلے گئے

    پل بھر کو بھی نہ رک سکی آنکھوں کی یہ ندی

    دامن میں اپنے اشک چھپاتے چلے گئے

    بیکار جا رہی تھی جو محنت خلوص کی

    پھر بھی وفا کے فرض نبھاتے چلے گئے

    شاعر تھے اور ضبط کا دعویٰ بھی تھا اسدؔ

    اشعار میں وہ راز بتاتے چلے گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے