ابھی سے اے دل ناداں یہ بے خودی کیا ہے
ابھی سے اے دل ناداں یہ بے خودی کیا ہے
ابھی تو عشق کا آغاز ہے ابھی کیا ہے
ملے تو کشمکش زیست سے مجھے فرصت
تو پھر سکون سے سوچوں گا زندگی کیا ہے
بقدر ظرف ہر اک بادہ خوار ہے لیکن
یہ اور بات ہے انداز مے کشی کیا ہے
ہر ایک رسم عبادت سے بے نیاز ہوں میں
وہ اس لئے کہ سمجھتا ہوں بندگی کیا ہے
کبھی نہ آتے یہاں شیخ ہم کو سمجھانے
اگر وہ جانتے رندوں کی تشنگی کیا ہے
علاوہ اس کے کہ ہم خود سے بے نیاز رہیں
کوئی بتائے شعور خود آگہی کیا ہے
شعور فکر و نظر کے بغیر اے راہیؔ
تمہیں بتاؤ کہ معیار زندگی کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.