الفاظ کی تصویر بہت رنگ بھری ہے
الفاظ کی تصویر بہت رنگ بھری ہے
مفہوم کے پیکر میں عجب جلوہ گری ہے
آنکھیں جو کھلی ہیں تو ملا درس حقیقی
نے خواب کی دنیا ہے نہ وہ بے خبری ہے
بیچ آئے ہیں کردار بھی دولت کے عوض میں
اس شہر میں الفاظ کی کیا سوداگری ہے
اک عمر ہوئی آج بھی گلدستۂ دل کے
سوکھے ہوئے پتوں کی کوئی شاخ ہری ہے
کافی ہے جنوں حاکم دوراں کے مقابل
کاغذ ہے قلم ہے مری آشفتہ سری ہے
روشن بھی نظر آئے تو سورج کی چمک سے
وہ چاند کی بستی جو ستاروں سے بھری ہے
ٹوٹا ہوا دالان ہے در ہے نہ دریچہ
مشہور مگر آج بھی وہ بارہ دری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.