Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ اور بات چاک پر گھما کے رکھ دیا گیا

نورین فیض آبادی

یہ اور بات چاک پر گھما کے رکھ دیا گیا

نورین فیض آبادی

MORE BYنورین فیض آبادی

    یہ اور بات چاک پر گھما کے رکھ دیا گیا

    جنون میں جنون ہی بنا کے رکھ دیا گیا

    وہ بے حجاب آ گئے مری نظر کے سامنے

    یہ دل ہوا کے دوش پر اٹھا کے رکھ دیا گیا

    محبتوں کے نور سے وفا سے اور خلوص سے

    فلک کی طرح گھر کو بھی سجا کے رکھ دیا گیا

    عجب طرح کی بے کلی ابھر رہی ہے باغ سے

    یہ کون تھا جو رو برو ہوا کے رکھ دیا گیا

    نئے چراغ ہو میاں سنبھل کے روشنی کرو

    میں آفتاب تھا مجھے بجھا کے رکھ دیا گیا

    ذرا سا آشنا ہوئے تھے زندگی کے کھیل سے

    ہمیں بساط سے الگ اٹھا کے رکھ دیا گیا

    خفا خفا ہے وہ بہت اسے منانے کے لئے

    بدن کی سلطنت کو بھی مٹا کے رکھ دیا گیا

    کسی بھی طور میں اسے نہ چپ کرا سکا تو پھر

    لبوں پہ اس کے رکھ کے لب دبا کے رکھ دیا گیا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے