یہ اور بات چاک پر گھما کے رکھ دیا گیا
یہ اور بات چاک پر گھما کے رکھ دیا گیا
جنون میں جنون ہی بنا کے رکھ دیا گیا
وہ بے حجاب آ گئے مری نظر کے سامنے
یہ دل ہوا کے دوش پر اٹھا کے رکھ دیا گیا
محبتوں کے نور سے وفا سے اور خلوص سے
فلک کی طرح گھر کو بھی سجا کے رکھ دیا گیا
عجب طرح کی بے کلی ابھر رہی ہے باغ سے
یہ کون تھا جو رو برو ہوا کے رکھ دیا گیا
نئے چراغ ہو میاں سنبھل کے روشنی کرو
میں آفتاب تھا مجھے بجھا کے رکھ دیا گیا
ذرا سا آشنا ہوئے تھے زندگی کے کھیل سے
ہمیں بساط سے الگ اٹھا کے رکھ دیا گیا
خفا خفا ہے وہ بہت اسے منانے کے لئے
بدن کی سلطنت کو بھی مٹا کے رکھ دیا گیا
کسی بھی طور میں اسے نہ چپ کرا سکا تو پھر
لبوں پہ اس کے رکھ کے لب دبا کے رکھ دیا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.