سوچتا ہوں کہ کیا لکھوں تم کو
سوچتا ہوں کہ کیا لکھوں تم کو
درد لکھوں دوا لکھوں تم کو
ابتدائے غم جہاں لکھ دوں
عشق کی انتہا لکھوں تم کو
تم بتاؤ کہ خواب رہنے دوں
یا کہ سچ مچ خدا لکھوں تم کو
دل نے چاہا لکھوں تمہیں امید
سچ لکھوں تو دعا لکھوں تم کو
تم سے کتنی شکایتیں ہیں مگر
کس طرح بے وفا لکھوں تم کو
پھر وہی تم ہو پھر وہی اظہرؔ
کیسے خود سے جدا لکھوں تم کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.