شعوری تجربے سے دن گزارنے والے
شعوری تجربے سے دن گزارنے والے
عجیب لوگ ہیں نقلیں اتارنے والے
خدا ملا نہ سکوں آخری دنوں میں بھی
خموش ہو گئے قسمت سنوارنے والے
حسین لڑکی محبت کوئی نصاب نہیں
کہ ٹاپ کر لیں اسے رٹا مارنے والے
انہی سے آج مری جاں کو خطرہ لاحق ہے
کبھی جو لوگ تھے جاں مجھ پہ وارنے والے
شعور زیست بھی دیتے نئی بہار کے ساتھ
لہو کی بوند میں احساس ابھارنے والے
وہ دن کہاں گئے جب تو خدا بنا ہوا تھا
اے بے بسی میں خدا کو پکارنے والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.