کوئی خیال مرے ساتھ چل نہیں پایا
کوئی خیال مرے ساتھ چل نہیں پایا
میں تنگنائے غزل سے نکل نہیں پایا
رہا ہے عشق میں عالم یہ کج کلاہی کا
کہ اس کے رنگ میں ڈھلنا تھا ڈھل نہیں پایا
تجھے بھی تیرے ستاروں کی چال نے مارا
مرے نصیب کا لکھا بھی ٹل نہیں پایا
میں جانتا تھا کہ تعبیر کیا نکلنی ہے
میں اپنے خواب کو لیکن بدل نہیں پایا
ندیمؔ شور تھا سینے میں ایک دریا ہے
مگر یہ حال کہ اب تک ابل نہیں پایا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.