حالت جاں پہ خدائی نہیں کی جا سکتی
حالت جاں پہ خدائی نہیں کی جا سکتی
دور گریے سے اداسی نہیں کی جا سکتی
ہم سے دل سوختہ لوگوں کو بھی لے بیٹھتا ہے
ایک غم جس کی تلافی نہیں کی جا سکتی
مجھ سے دریا نے کہا دیکھ کے بار ہجرت
برد یاں پر کوئی نیکی نہیں کی جا سکتی
عشق نگری میں بھی رہنے کا سلیقہ ہے کہ یاں
دل سے بالا کوئی مرضی نہیں کی جا سکتی
روز کا پیت ملن ٹھیک نہیں کہ چاہت
یوں ترے لمس کی عادی نہیں کی جا سکتی
ایک ہی شخص تو میں تھا ترے قابل لیکن
اب ترے دل پہ تو سختی نہیں کی جا سکتی
حیف یہ چارہ گری ہجر کی بابت میری
یہ وہ حالت ہے جو اچھی نہیں کی جا سکتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.