بخت کے زیر و بم پہ چھوڑا ہے
بخت کے زیر و بم پہ چھوڑا ہے
خود کو تیرے کرم پہ چھوڑا ہے
آئیے بیٹھیے تماشے میں
میں نے آہو کو رم پہ چھوڑا ہے
زندگی خاک میں ملائے گی
خود کو برق ستم پہ چھوڑا ہے
سر کو دیوار کا سہارا تھا
اب کہ رنج و الم پہ چھوڑا ہے
فیصلہ اب مرا وہاں ہوگا
صاحب خوش قلم پہ چھوڑا ہے
جینے مرنے کا فیصلہ اس نے
میری جھوٹی قسم پہ چھوڑا ہے
دل کی آوارگی کو میں نے بھی
نقش ہائے قدم پہ چھوڑا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.